دمشق،7اگست؍(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)شام میں باغیوں کے دھڑے نے حلب شہر میں کئی ماہ سے جاری حکومتی محاصرہ ختم کرنے کا دعویٰ کیا ہے جس کے بعد وہ اہم شمالی شہر کی جانب بڑھ رہے ہیں۔حکومتی افواج کے قریبی ذرائع نے اپنی پسپائی کی اطلاعات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے باغیوں کو عسکری اڈے سے پیچھے دھکیل دیا ہے۔برطانیہ سے شام کی صورتحال پر نظر رکھنے والی تنظیم سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ باغی حلب شہر میں موجود اپنی ساتھیوں سے رابطے بحال کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں لیکن باغیوں کو شہر تک محفوظ راستہ تلاش کرنے میں کامیابی نہیں ہوئی ہے۔باغیوں کے اس گروہ میں شدت پسند تنظیم القاعدہ کے حمایت یافتہ گروہ بھی شامل ہیں۔
یاد رہے کہ شام میں حکومتی افواج نے گذشتہ ماہ باغیوں کے زیر قبضہ شہر حلب کا محاصرہ کیا تھا۔ جس کے بعد ڈھائی لاکھ افراد شہر میں محصور ہو کر رہ گئے تھے۔سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے سربراہ رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ باغیوں نے محاصرہ ختم کر دیا ہے لیکن وہ راستے پرمکمل طور پر قبضہ نہیں کر سکے ہیں۔اس سے قبل باغیوں کے گروہ نے کہا تھا کہ انھوں نے شہر میں موجود فوجی اڈے پر پتھراؤ کیا جس کے جواب میں شامی افواج نے کہا کہ انھوں نے باغیوں کے حملے کا منہ توڑ جواب دیا ہے اور باغیوں کو بھاری جانی نقصان اُٹھانا پڑا ہے۔
دوسری جانب امریکہ کے حمایت یافتہ کرد اور عرب جنگجوؤں نے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے زیرِقبضہ شام کے شہر منبج پر تقریباً مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ترکی کی سرحد کے قریب واقع یہ شہر دفاعی اعتبار سے اہم سمجھاجاتا ہے اور گذشتہ دو برس سے اس پر دولتِ اسلامیہ کا قبضہ تھا۔شام کی افوج کی روس کے فضائی آپریشن کی مدد سے باغیوں سے لڑ رہی ہے۔خیال رہے کہ مارچ 2011سے شام میں شروع ہونے والے اس تنازع کے بعد سے اب تک دو لاکھ 80ہزار افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ تین لاکھ افراد تاحال ان علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔